Fawad-Hasan-Fawad

کچھ اپنے بارے میں


1960ء کا پاکستان،جب میں سیالکوٹ میں درمیانے طبقے کے ایک گھر میں پیدا ہوا اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کے آخر کے پاکستان سے ہر لحاظ سے مختلف تھا۔ درحقیقت ان دونوں کے درمیان موازنے کی کوئی کوشش بھی ممکن نہیں۔ ان چھ دہائیوں میں آنے والی تبدیلی نہ صرف ایک جوہری تبدیلی ہے بلکہ یہ کسی ایک نوعیت کی تبدیلی نہیں۔ یہ درحقیقت کثیر الجہت (Multi-Faceted) بھی ہے اور گھبیر (Complex) بھی۔ میری نسل کے پاکستانیوں نے اس معاشرے کو تین ہمہ جہت تبدیلیوں(Transformations) سے گزرتے دیکھا ہے۔ معاشرتی (Social)، معاشی (Economic) اور اخلاقی (Ethical)…… اور ان میں سے ہر انقلاب اپنے انداز میں اسے مکمل طور پر بدل گیا۔

خونِ ناحق


کہا تھا ميرے نبؐی نے بے شک
کہ جاں کی حُرمت ہے تم پہ واجب
کہا تھا اُس نے کہ خونِ ناحق نہ معاف ہو گا
کہ روزِ محشر خدائے برحق حساب لے گا

The vote for America’s soul


Listening to the first US Presidential debate last week, I could not stop thinking about the leadership crisis the world faces today in the midst of one of the most challenging periods of modern human history. Much that one would hesitate to say this, both the mannerism, contents and quality of the debate felt just like home — knowing that in less than a month, one of these gentlemen will be the most powerful elected leaders in the universe was virtually frightening.

کشمیر ۲۰۲۰


سُنا ہے اب کے برس بھی وادی
غنیم کے لشکروں کے لمبے محاصرے کے
حصا ر میں ہے
سُنا ہے خو شبو کا دیس محصور ہو چکا ہے
،سُنا ہے اب کے برس تو میرے گلاب چشمو ں
شفاف جھیلوں اور آبشا روں میں بہتا پانی
بھی جم گیا ہے